منبر رسول کا تقدس اب پامال کیا جا رہ

منبر رسول کا تقدس اب پامال کیا جا رہ

منبر رسول کا تقدس اب پامال کیا جا رہا افراط و تفریط پر مبنی بیانات عام ہوگیے ہیں اعتدال نہ عوام کو پسند نہ منتظمین جلسہ کو
بلکہ اب جلسہ کے بنیادی مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ
ایسے کو بلاؤ جس کے نام سے بھیڑ اکٹھا ہو
ایسے کو بلاؤ جس سے مدرسے کا چندہ خوب ہو
ایسے کو بلاؤ جو ہمارے مطابق بیان کرے
ایسے کو بلاؤ جسے نوجوان پسند کرتے ہوں
یہ عوام اور مدارس مساجد اور جلسہ کرانے والوں کے خواہشات ہیں
پھر اسکے بعد دعوت دینے والے بھی کچھ شرائط رکھتے ہیں
اپنے والے کو بلاو تاکہ جو پاے اپنا پاے، اپنا حلقہ بنے
اپنے سلسلے کے لوگوں کو بلانا ہے
ایسا نعت خواں، مقرر، یا پیر ہو جو ہزاروں کے مجمع میں میرا دو چار بار تو نام لے ہی لے
مختصر یہ کہ چندہ دینے والے، انتظام کرنے والے، دعوت دینے والے، مدرسہ والے سب اپنا اپنا ذاتی نفع پیش نظر رکھتے ہیں. نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک گھنٹے کا 40 اور 50 ہزار دینے کے بعد بھی صبح کوئی دینی نفع نظر نہیں آتا دس بیس لاکھ جلسے میں لگانے کے بعد بھی پچاس لوگوں کی بھی اصلاح نہیں ہوتی.
الا ماشاء اللہ-
ایک بڑے تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اچھا عالم، سلجھا اور سنجیدہ بیان کرنے والا، محتاط اور غیر چاپلوس عالم تو بہت کم ہی بلایا جاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *