ہمارے جلسوں کا حال
جلسہ کرانے والے چاہتے ہیں کہ خوب نام ہو، ہر طرف ہماری واہ واہی ہو
ناظم چاہتا ہے کہ میری نظامت کامیاب ہو جائے، میری ہر طرف دھوم ہو
نعت خواں چاہتا ہے کہ کامیاب ہو جاؤں، مجھے لوگ ہر جگہ بلائیں،
خطیب چاہتا ہے کہ میری علمی دھاک علاقے والوں پر بیٹھ جائے، میں ہر دلعزیز خطیب بن جاؤں، لمبے لمبے القاب ہوں
پیر چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ میرے مرید ہوں تاکہ حلقہ وسیع ہو.
مدارس والے نامور خطبا و شعرا کو بلاتے ہیں تاکہ چندہ زیادہ ہو عوام زیادہ آئے
ایک بار نہیں ہزار بار سوچیے جلسہ دین کے نام پر، لوگ آتے ہیں دین کے لیے، چندہ دین کے نام پر ہوا، علما، شعرا، سب دین کے نام پر اکٹھا کیے جاتے ہیں
سب کچھ ہوتا ہے لیکن پیارے مقدس دین کا دفاع نہیں ہوتا، دین کی حقانیت نہیں پیش کی جاتی، دین دلوں میں راسخ نہیں کیا جاتا، ہر کوئی اپنی اپنی فکر میں ہے، کسی کو دین کی فکر نہیں، اس وقت کے چیلنجز کیا ہیں، امت کو کن مسائل سے آگاہ کرنا اشد ضروری ہے؟ ہمارے دین پر کیسے کیسے اعتراضات کیے جا رہے ہیں ان کے جوابات کیسے دیے جائیں،
کروڑوں روپیہ دین کے نام پر خرچ کیا جاتا ہے لیکن دین کے دفاع و اشاعت میں نہیں الا ماشاء اللہ
