عصر حاضر میں جعلی تبرکات کی بھر مار

عصر حاضر میں جعلی تبرکات کی بھر مار

عصر حاضر میں جعلی تبرکات کی بھر مار
علمائے اہل سنت بلا شبہ مختلف محاذ پر کام کر رہے ہیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اس وقت بہت سے اہم موضوع کے ساتھ تبرکات مقدسہ کے متعلق لکھنا بولنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے ـ

ہند و پاک میں اب موئے مبارک صحابہ و تابعین سے منسوب تبرکات کثرت سے سننے میں آ رہے ہیں سوال یہ ہے کہ یہ تبرکات کہاں سے آئے؟
گیارہ بارہ سو سال تک جن کا پتہ تک نہ تھا وہ اب ہر ایرے غیرے کے پاس کیسے پہنچ گیے؟
یہ تبرکات اصلی ہیں یا نقلی؟

کوئی نعلین مصطفٰی تو کوئی سیف حسنین کریمین حد تو تب ہوئی جب مدھیہ پردیش میں پسینۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرائی گئی کسی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس حجر اسود کا ٹکڑا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے جنگ احد میں شہید دندان مبارک میرے پاس ہیں، کوئی امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کی زیارت کروا رہا ہے تو کوئی خلفائے راشدین سے منسوب تبرکات کی ـ

اُٹھو اس سے پہلے کہ اصل کو مشکوک کر دیا جائے، لکھو اس سے پہلے کہ نسلیں گمراہ ہوں، بولو اس سے پہلے کہ لوگ غلط و صحیح کا تمیز کھو دیں ـ

کیا ہر منسوب کو بلا چوں چرا مان لیا جائے گا؟؟

تبرکات مقدسہ کو پہچاننے کا کیا طریقہ ہے؟؟
کب اور کہاں کہاں اور کیسے جعلی تبرکات پھیلائے جا رہے ہیں؟؟؟

جاننے کے لیے کتاب (اسلامی تبرکات میں ملاوٹ) کا مطالعہ کریں 👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻

کتاب کے مکمل صفحات یہاں پڑھیں ↶
https://www.facebook.com/share/p/1CU5X9wsAN/
یہ کتاب pdf مِیں Telegram پر ↶
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori/8468

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *