کیسے غیرت مند بزرگ ہوا کرتےتھے
الشیخ، الامام، العلامہ، الواعظ، ذو الفنون،ابو الخیر رضی الدین احمد بن اسماعیل بن یوسف الطالقانی القزوینی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:۵۹۰ھ)بغداد شریف میں وعظ و نصیحت اور دین کی خدمت کیا کرتے تھے۔
فَلَمَّا اَظْهَرَ فِيهَا اَحَدُ الْوُلَاةِ الرَّفْضَ، قَالَ: مَعَاذَ اللّهِ اَنْ اُقِيْمَ بِبَلْدَةٍ يُجْهَرُ فِيْهَا بِسَبِّ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَهَجَرَ بَغْدَادَ، وَسَارَ اِلٰى بَلْدَةِ قَزْوِيْنَ، وَهُوَ صَاحِبُ كِتَابِ: (تَعْرِيْفِ الْاَصْحَابِ سَوَاءِ السَّبِيلِ )
آپ بغداد میں وعظ کیا کرتے تھے۔ پھر جب وہاں کے ایک حاکم نے رفض یعنی اہلِ بیت کے علاوہ صحابہ سے بغض والا عقیدہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا:
’’اللہ کی پناہ! میں ایسے شہر میں کیسے رہوں جہاں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کھلم کھلا برا بھلا کہا جاتا ہو‘‘۔
چنانچہ انہوں نے بغداد چھوڑ دیا اور قزوین شہر کی طرف چلے گئے۔ یہی وہ شخصیت ہیں جو ’’تعریف الاصحاب سواء السبیل‘‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔
غیرت ایمانی دیکھیے کہ وہ شہر ہی چھوڑ دیا جہاں نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی گستاخیاں کی جاتی تھیں ۔ اور آج کل عقابوں کے نشمین میں بیٹھے ہوئے زاغ نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیاں کرتے ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ امت میں افتراق و انتشار کی برقرار رہےاور پھر اس نام دیا جاتا ہے محبت اہل کا ، جبکہ اس کا محبت اہل بیت اطہار سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔ اہل بیت پاک سے محبت کرنے والا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا گستاخ نہیں ہو سکتا اور صحابہ سے محبت کرنے اہل بیت اطہارکا گستاخ نہیں ہو سکتا ۔
ابو ذہیب محمد ظفر علی سیالوی غفرلہ
تبصرے (1)
Alhamdulillah