EN

حضرت مولانا سید شہزاد صاحب قبلہ نے "برائی" سے روکنے کی کوشش کی

مضمون سنیں (Listen to Article):

حضرت مولانا سید شہزاد صاحب قبلہ نے "برائی" سے روکنے کی کوشش کی (یہ بحث کہ روکنے کا طریقہ مناسب ہے یا نہیں الگ ہے) مگر عوام کو روکنے کی کوشش تو کی شرمندہ ہونے کے بجائے سنا ہوں کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کر دی گئی ہے

#چند_باتیں

👈 عوام کی نا اہلی کے سبب جب ان پر آفت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ "علما"ساتھ نہیں دیتے 

👈 اگر کسی کی لڑکی اغیار کے ساتھ فرار ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ "علما" کام نہیں کر رہے ہیں 

👈 علاقے میں آوارگی پھیلتی ہے، یا دوسرے جرائم مثلا چو.ری، زنا، شراب نشہ کا دور دورہ ہوتا ہے تو یہی لوگ کہتے ہیں کہ "علما" کو آگے آ کر کام کرنا چاہیے 

👈 جہیز کا چلن اور شادی بیاہ کے مشکل ہونے پر یہی عوام کہتی ہے کہ "علما" اس پر لگام لگائیں.

سوال یہ ہے کہ

جہیز کا بڑھنا ہو، یا زنا شراب کی لت، مسلم لڑکیوں کا فرار ہونا ہو یا مسلم علاقے میں نوجوانوں کی بے راہ روی

ہر بات کے ذمہ دار "علما" ہی کیوں؟

#آپ_نے_کیا_دیا_ہے_علما_کو؟

اسکول و کالج میں لاکھوں روپیہ ہر سال کیرئیر بنانے کے لیے لگاتے ہیں، انہیں "برائی" کا ذمہ دار کیوں نہیں مانتے؟

ٹیوشن کلاس کرانے والوں پر ذمہ داری کیوں نہیں آتی؟

موبائل آپ دیں، عریاں لباس آپ پہنائیں، مگر ذمہ دار مولوی ہی کیوں؟

ووٹ دے کر سیاسی اختیارات آپ جسے سونپتے ہیں وہ ذمہ دار نہیں مگر وہ شخص کیوں ذمہ دار ہے جسے آپ نے کچھ نہ دیا؟

علمائے دین کو بھی چاہیے کہ وہ سمجھیں کہ ہم پر کیا اور کتنا فرض ہے خواہ مخواہ ہر دل عزیز بننے کے خاطر یا زیادہ متحرک و فعال بننے کے چکر میں اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا لیں........ کیا آپ نے نہیں سنا

ہر فرض بقدر قدرت، ہر حکم بشرط استطاعت

اگر پیدائش کے وقت بچے کے کان میں اذان، شادی کے وقت نکاح، اور مرنے کے بعد جنازے نہ پڑھوانا ہو تو پوچھتا کون ہے؟

ہاں فاتحہ، پریشانی میں تعویذ بس اتنی ہی ہماری ضرورت عوام نے سمجھا ہے الا ماشاء اللہ

نوٹ:- اکثر ایسا ہی دیکھنے کو ملا ہے اگرچہ عوام میں آج بھی بیدار مغز، دین پسند، شریعت و سنیت سے محبت کرنے والے، علمائے دین سے لگاؤ رکھنے والے کچھ لوگ پاے جاتے ہیں مگر بڑی تعداد علما بیزار ہو رہی ہے.…

ان باتوں سے اتفاق و اختلاف رکھنا آپ کا حق ہے ممکن ہے میرے تجربات غلط ہوں 

تبصرے (0)

  • ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ پہلا تبصرہ آپ کیجیے!