سیدہ سکینہ اور واعظین و ذاکرین
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیاری بیٹی سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا اسلام کی ایک عظیم خاتون ہیں آپ نے کربلا بہ چشم خود ملاحظہ فرمایا ہے، واعظین نے آپ کے تعلق سے عجیب و غریب واقعات تراشے ہیں، مرثیہ لکھنے والوں نے آپ کی جانب بہت سی باتوں کو منسوب کیا ہے، عبد الحلیم شرر نامی بندے نے "سیدہ سکینہ" پر ایک کتاب لکھی جو یقیناً اس شرر کی شرا. رت کی عکاسی کرتی ہے. غالباً اسی کتاب کی وجہ سے لکھنؤ چھوڑنا پڑا تھا...
*بہرحال چند واقعات کی نشاندہی کرتا ہوں:*
❶ سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا کے تعلق سے خطبا بتاتے ہیں کہ آقا حسین نے شب عاشورا آپ کو قرآن شروع کرایا پانی تو تھا نہیں لہٰذا تیمم کرایا، بعدہ تعوذ و تسمیہ پڑھانے کے آپ رونے لگے بچی نے پوچھا تو فرمایا قرآن تو شروع کروا دیا ہوں اب دیکھو ختم کون کراتا ہے....
❷ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ جب میدان کربلا میں جانے لگے تو گھوڑا آپ کا ہل نہیں رہا تھا آپ بار بار کوشش کرتے مگر گھوڑا آگے نہ بڑھا بہر حال جب نیچے دیکھا تو گھوڑے کے قدموں سے سیدہ سکینہ لپٹی ہوئیں تھیں ننھی سی بچی کو آقا حسین نے گود میں اٹھایا تسلی دی....
❸ سیدہ سکینہ اور سیدنا قاسم بن حسن کی کربلا میں شادی اور اسی مناسبت سے مہندی کی رسم اور تعزیہ میں ایک مہندی کی تعزیہ بھی بنائی جاتی ہے ـ
❹ سیدہ سکینہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں واعظین بتاتے ہیں کہ یزید کی جیل میں آپ کا وصال ہو گیا مشہور واعظ نرا جا.ہل ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی رو رو کر اسے بتایا ہے..
یہ چاروں باتیں جھو.ٹی ہیں جسے افسانہ نگار حضرات نے خوب سنوار کر پیش کیا ہے ـ آخری دونوں باتیں تو درجنوں صحیح تاریخی روایات کی تکذ.یب کرتی ہیں اور سب سے آخری بات تو بیان کرنا جرم سمجھتا ہوں کیونکہ سیدہ سکینہ بعد کربلا حیات رہیں اور آپ کے یکے بعد دیگرے کئی نکاح ہوئے جب شوہر اول کی شہادت ہو گئی تو دوسرا نکاح ہوا پھر اس کے بعد بھی آپ کے کئی نکاح ہوئے، تقریباً 117ھ یا 107ھ تک آپ حیات رہیں یعنی کربلا کے بعد کم و بیش پچاس سال تک واللہ اعلم بالصواب
تبصرے (0)