سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین پہلے
امیر المومنین افضل الخلق بعد الانبیاء والرسل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ کرام نے “چنا” کیوں کہ آپ سب میں افضل تھے
#پھر_آپ_نے
امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا جسے تمام صحابہ کرام نے قبول فرمایا لہذا آپ دوسرے جانشین قرار پاے
بعدہ سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے چند حضرات کا نام ارشاد فرمایا کہ فلاں فلاں میں سے جن پر تم سب اتفاق کرو انہیں خلیفہ بنا دینا چنانچہ تمام اہل حل و عقد صحابہ کرام بشمول مولی المسلمین علی مرتضیٰ
#سیدنا_عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی ذات پاک پر متفق ہوئے جامع قرآن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی
بعد شہادت تمام اہل حل و عقد صحابہ کرام نے مل کر
#چوتھے_جانشین کے طور پر
امیر المومنین خلیفۃ المسلمین سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ مسلمانوں کے “امیر المومنین” اور چوتھے جانشین ہوئے
آپ رضی اللہ عنہ نے وقت شہادت خلیفہ راشد سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ کو خلافت سپرد کر دی
#توجہ_رہے یہ سب یکے بعد دیگرے مختلف طریقے سے منصب خلافت پر فائز ہوتے رہے پھر ارشاد رسول پاک کی روشنی میں خلیفہ راشد سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ نے
#وہی_خلافت_جو_سلسلہ وار چلی آ رہی تھی اسی کو
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی وہ عظیم ترین امانت یکے بعد دیگرے منتقل ہوتا رہا وہی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا کیوں کہ آپ بھی قرشی ہیں اور حدیث رسول پاک میں ہے کہ “خلفاء قریش سے ہوں گے”
