نصاب کے متعلق اہم وضاحت.
نصاب کے متعلق اہم وضاحت
تین موقع پر ہم نصاب کا مسئلہ پوچھتے یا سنتے ہیں
1) مالک نصاب پر زکوٰۃ فرض ہے
2) مالک نصاب پر فطرہ واجب ہے
3) مالک نصاب پر قربانی واجب ہے،
جاننا چاہیے کہ زکوٰۃ "مال نامی" پر ہے اگر مال غیر نامی ہو خواہ کتنا بھی ہو اسے مال زکوٰۃ میں شمار نہیں کیا جاے گا.
جبکہ فطرہ اور قربانی کا" نصاب" بناتے وقت حاجت اصلیہ سے زائد مال بھی شمار کیا جاے گا.
زکوٰۃ کے لیے سال گزرنا شرط ہے.
جبکہ فطرہ و قربانی کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں
زکوٰۃ میں روپیہ، یا اس سے کوئی چیز خرید کر مثلاً کھانا کپڑا بھی دیا جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جاے گی،
جبکہ قربانی میں قربانی ہی کرنی ہوگی بدل نہیں، اور وقت نکل جاے تو قیمت صدقہ کرنا ہوگا، البتہ صدقہ فطرہ میں آپ قیمت دیں یا گیہوں وغیرہ،
آپ زکوٰۃ نکالنا چاہتے ہیں؟
تو ایسا کیجیے کہ کاغذ پر لکھیے
1) میرے پاس سونا اتنا ہے اور اس کی موجودہ قیمت یہ ہے،
نوٹ:- سونا زیور کی شکل میں ہو، یا بسکٹ یا برتن ڈبیہ وغیرہ، البتہ "گروی " (رہن) رکھا ہوا شمار نہ ہوگا
2)میرے پاس چاندی اتنی ہے اور موجودہ قیمت یہ ہے.
نوٹ:- چاندی کسی بھی شکل میں خواہ زیور ہو یا برتن وغیرہ ہاں گروی شمار نہ ہوگا
3) روپیہ خواہ ملکی ہو یا غیر ملکی، کیش اتنا ہے، بینک میں جمع اتنا ہے، قرض اتنا دے رکھا ہوں، فلاں اتنا باقی ہے
4) مال تجارت تجارت جو میرے پاس آج موجود ہے اس کی آج کے حساب سے کل اتنی قیمت بنتی ہے
اس کے علاوہ کوئی مال شمار نہ ہوگا
ان کی موجودہ قیمت نکال کر ٹوٹل کر لیجیے
اب آپ پر جو قرض ہیں، اسے گھٹائیں باقی جو بچے اس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ نکال دیجیے.
نوٹ:- مختصر لکھا ہوں تفصیل میسج وغیرہ کے ذریعہ سے معلوم کر سکتے ہیں
📝حسن نوری گونڈوی امام نورانی مسجد بیگم باغ کالونی اجین ایم پی
تبصرے (0)