جشنِ عید میلاد النبی مبارک ﷺ: 12 ربیع الاول شریف — آمدِ مصطفیٰ، مرحباً یا مصطفیٰ ﷺ
Loading date & time...
EN

اصطلاحات بڑے منظم طریقے سے بدلے جا رہے ہیں

مضمون سنیں (Listen to Article):
رفتار:

اصطلاحات بڑے منظم طریقے سے بدلے جا رہے ہیں

آپ دیکھیے اچھی آواز میں قران کریم کی تلاوت کرنے والے کو قاری کہا جانے لگا، نعت خواں حضرات کو شاعر کہنے لگے،اگر کسی مشہور شخصیت کا بیٹا اول فول بکنے والا ہو تو مجذوب کہہ دیتے ہیں، لفظ صوفی کا تو بہت ہی غلط استعمال ہمارے زمانے میں رائج ہے،

سیدنا مخدوم  شرف الدین احمد یحییٰ منیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

 وضو کرنا شریعت جبکہ ہر وقت باوضو رہنا طریقت ہے" ارشاد کی روشنی میں آج کل کے مدعی طریقت کو دیکھا جاے تو حیرانگی ہوتی ہے.…

صحابہ کرام کی ادبی تو..ہین اور رکیک حم.لے کرنے والے کو اکابرین نے رافجی کہا ہے حتی کہ منکر تفضیل شیخین کو بھی رافجی ہی کہا ہے

اسی طرح اہلبیت اطہار کی بے ادبی یا شان گھٹانے والے کو نا.صبی کہا گیا ہے

اب ہمارے زمانے میں  کوئی

سیدنا امیر معاویہ و عمرو بن العاص، مغیرہ بن شعبہ، سیدہ ہندہ و ابوسفیان یا اصحاب جمل و صفین وغیرہ کی بے ادبی کرے تو اس بے ادب کا رد کرتے ہوئے رافجی کہنے پر فوراً دوسری جانب سے اہلسنت کے علما کو نا..صبی کہا جانے لگا ہے اور اگر صحابہ کرام کی بے ادبی کرنے والا سادات سے ہو جیسے کامران چشتی، حبیب احمد حیدرآبادی، اجمل شاہ، سلمان ندوی، وغیرہ تو اب ان کی بے ادبی اور گستا.خی کرنے والا بہرحال خا..رجی اور نا..صبی کہلائے گا

جبکہ یہی لوگ اصل نا..صبی کفایت اللہ سنابلی، محمود عباسی، عتیق الرحمن سنبھلی، وغیرہ کو کبھی جواب دیتے نظر مہ آتے

حد تو تب ہوئی جب اہلسنت کے افراد مشترک فضائل صحابہ و اہلبیت کی نشاندہی کرنے لگے تاکہ روافج جو مشترک کو خصائص بنا کر پیش کرتے ہیں ان کا رد ہو

تو اسی گروہ نے اس نشاندہی کو "تو.ہین اہلبیت " بتانے لگے یعنی ارشادات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنانے والا بھی اب نا.صبی کہلائے گا

تبصرے (0)

  • ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ پہلا تبصرہ آپ کیجیے!